Treaty of Adrianople معاہدہ ادرانہ

adrianople
adrianople
معاہدہ ادرنہ جنگ ناوارینو میں کامیابی اور یونان کی آزادی کے بعد روس نے قسطنطنیہ پر قبضے کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کا منصوبہ بنایا اور اس مقصد کے حصول کے لیے سلطنت عثمانیہ پر چڑھائی کر دی۔ روسی افواج مالدووا اور افلاق (ولاچاس) پر قبضہ کرتی ہوئی آگے بڑھتی رہیں اور بالآخر 1829ء میں ادرنہ تک پہنچ گئیں۔ بالآخر عثمانی سلطان محمود ثانی کو صلح کرنا پڑی اور روس اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان اس وقت جو معاہدہ طے پایا اسے معاہدہ ادرنہ (انگریزی: Treaty of Adrianople) کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کی رو سے روسیوں نے یورپی ترکی کے تمام مقبوضہ مقامات سلطنت عثمانیہ کو واپس کر دیے۔ دریائے ڈینیوب اور مالدووا کا ایک حصہ سلطنت روس میں شامل کر لیا گیا۔ روس ایشیاء میں چند قلعوں کے علاوہ بقیہ فتوحات سے دستبردار ہو گا ۔ افلاق اور مالدووا کے امیروں کا انتخاب تاحیات ہونا قرار پایا۔ افلاق اور مالدووا میں ترک افسران کی مداخلت اور کسی مسلمان کو رہائش اختیار کرنے کا حق ترکوں کو نہیں دیا گیا۔ وہاں رہنے والے مسلمانوں کو جائدادیں فروخت کرنے کی مہلت دی گئی۔ سلطنت عثمانیہ کی فرمانروائی صرف نام کی رکھی گئی اور سالانہ خراج مقرر ہوا جو دو سال تک معاف قرار پایا۔ سرویا (سربا ) کے لیے بھی اس طرح کی آزادی کا اعلان ہوا اور ان کے معاملات مں سابقہ معاہدے کے مطابق فوری عملدرآمد شروع کرنا قرار پایا۔ بحیرہ اسود، باسفورس اور درہ دانا ل روس کے تجارتی جہازوں کے لیے کھول دیے جائیں گے۔ دوران جنگ روس کو پہنچنے والے تجارتی نقصان کی تلافی بطور تاوان دس سالانہ قسطوں میں ادا کرنا مقرر ہوا اور تمام اقساط وصول کرنے تک روس کی فوجیں افلاق اور مالدووا پر قابض رہیں گی۔ صلح کے اس معاہدے کی سب سے بنیادی بات یونان کی آزادی تھی اور اس کی روسے سلطنت عثمانیہ نے لندن میں طے ہونے والے معاہدے کی شرائط کو بھی تسلیم کر لیا۔ چند ماہ بعد سلطنت عثمانیہ نے یونان کی خود مختاری کو تسلیم کر لیا اور اس حدود بندی کو بھی قبول کر لیا جو یورپی طاقتوں کی طرف سے کی گئی تھی۔ معاہدہ ادرنہ میں یونان خود مختار ہوا اور سرویا کو آزادی ملی لیکن یونان کے آئے دن کے جھگڑوں سے یورپ کو پھر مداخلت کرنا پڑی جبکہ مصر کے والی محمد علی پاشا نے بھی سلطنت کی اطاعت سے منہ موڑ لیا تھا اور برطانیہ نے بھی اس سے اپنا رویہ بدلا۔ یونان کا مسئلہ 1832ء میں لندن کانفرنس میں مستقلاً حل ہو گیا جہاں یونان کی آزادی کو برقرار رکھا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.